گیٹریل ٹیبلٹ کا استعمال | گیٹریل 2mg کے مضر اثرات اردو میں | گیٹریل 4mg کے استعمالات اردو میں | گیٹریل

Share

Summary

گیٹریل ایک ایسی دوا ہے جو ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں میں شوگر کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتی ہے۔ یہ لبلبے کے بیٹا سیلز کو متاثر کرتی ہے تاکہ زیادہ انسولین پیدا ہو، اور جسم میں گلوکوز کی مقدار کو بھی کم کرتی ہے۔ اس ویڈیو میں، آپ گیٹریل کے استعمالات، اس کی خوراک، ممکنہ مضر اثرات، اور کن مریضوں کو اس کا استعمال نہیں کرنا چاہیے کے بارے میں جانیں گے۔

Highlights

گیٹریل کا تعارف اور اس کا کام
00:00:26

گیٹریل لبلبے کے بیٹا سیلز پر اثر انداز ہو کر زیادہ انسولین پیدا کرواتی ہے اور جسم میں گلوکوز کی پیداوار کو کم کرتی ہے۔ یہ عمومی طور پر شوگر کے مریضوں میں استعمال کی جاتی ہے۔

گیٹریل کا استعمال اور خوراک
00:00:52

گیٹریل کو اکثر میٹفارمین جیسی دیگر ادویات یا انسولین کے ساتھ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، خاص طور پر ایسے مریضوں میں جن کی شوگر کنٹرول نہیں ہو رہی ہو۔ اس کی ابتدائی خوراک 1 سے 2 ملی گرام فی دن ہے جو زیادہ سے زیادہ 8 ملی گرام (4 ملی گرام صبح اور 4 ملی گرام شام) تک بڑھائی جا سکتی ہے۔

گردوں اور جگر کے مریضوں کے لیے احتیاطی تدابیر
00:01:52

گردوں کی بیماری میں مبتلا افراد کو گیٹریل کی خوراک 1 ملی گرام سے زیادہ نہیں دی جاتی، اور کچھ صورتوں میں زیادہ سے زیادہ 2 ملی گرام تک دی جا سکتی ہے۔ جگر کے مسائل والے مریضوں کو بھی ڈاکٹر کو پہلے سے آگاہ کرنا چاہیے۔

شوگر لیول اور خوراک کا تعین
00:02:30

گیٹریل کے استعمال سے پہلے شوگر کا ٹیسٹ (جیسے ایچ بی اے ون سی) کروانا ضروری ہے تاکہ خوراک کا درست تعین کیا جا سکے۔ زیادہ خوراک کی صورت میں شوگر لیول گر سکتا ہے، ایسی صورتحال میں میٹھا یا گلوکوز دے کر شوگر کو مستحکم کیا جا سکتا ہے۔

دوا کی خوراک بھول جانے کی صورت میں ہدایات
00:02:55

اگر آپ ایک بار دوا لینا بھول جائیں تو اگلی بار دوگنی خوراک نہ لیں۔ اگلی خوراک معمول کے مطابق لیں۔

Recently Summarized Articles

Loading...